جگر کی بیماریاں، احتیاط، علاج

جگر ہمارے جسم کا دوسرا بڑا اور ٹھوس عضو ہے جس کا وزن 1 سے ڈیڑھ کلو گرام تک ہوتا ہے- جگر ہمارے جسم میں دائیں جانب پیٹ کے اوپر اور پسلیوں کے پیچھے ہوتا ہے – جگر وہ تمام غذاجو ہم کھاتے ہیں اسے توانائی میں تبدیل کردیتا ہے جبکہ یہ توانائی ہمارے جسم کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔
جگر پر تمام قوتوں کا دارومدار ہے جگر میں خرابی ہونے پر خون کے عمدہ نہ بننے اور پوری طرح اعضا کو نہ پہنچنے کی وجہ سے بدن کی حالت نہایت خراب ہوجاتی ہے جگر ایک نازک عضو ہے جو نہ زیادہ سردی برداشت کرتا ہے اور نہ زیادہ گرمی ۔ کثرت سے کھانے مرغن غذائیں ،شراب خوری زیادہ گوشت کا استعمال اور ورزش نہ کرنے کی وجہ سے جگر کی حرارت بڑھ جاتی ہے ان مختلف وجوہات کی بنا پر ورم جگر درد جگر جگر کا بڑھ جانا یا سکڑجاناجیسی بیماریاں لاحق ہوجا تی ہیں۔
جگر خون کو صاف کرنے کے ساتھ‌ساتھ جسم میں تقریباً ۵۰۰ دوسرے اہم کام بھی انجام دیتا ہے۔‏ اِس وجہ سے جگر کی سوجن سے انسان کی صحت بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔‏ جگر کی سوجن کو ہیپاٹائٹس کہتے ہیں۔‏ ہیپاٹائٹس کی بیماری حد سے زیادہ شراب پینے سے یا پھر مختلف قسم کے زہر سے لگ سکتی ہے۔‏ لیکن عام طور پر یہ بیماری وائرس کے ذریعے لگتی ہے۔‏ سائنس‌دانوں نے پانچ ایسے وائرس دریافت کئے ہیں جن سے یہ بیماری لگ سکتی ہے اور اُن کا خیال ہے کہ مزید تین وائرس موجود ہیں جو اِس بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔‏ اکثر حالتوں میں وائرس جب جسم میں داخل ہوتا ہے۔ تو جسم کا دفاعی نظام خود ہی مقابلہ کرتا ہے اور اکثر لوگ خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی وجہ سے ان جراثیم کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ابتدائی طور بیماری کی کوئی علامت ظاہر ی نہیں ہوتی۔ جب علامات ظاہر ہوتی ہے تو بیماری کافی اگےبڑھ چکی ہوتی ہے۔
یرقان کے مریض کے لیے خوراک
ابتدائی علاج:موافق غذائیں: روٹی‘ نان‘ مونگ کی کھچڑی‘ ساگودانہ‘ مولی‘ گنڈیریاں‘ آش جو‘ چاول‘ دودھ اور اس کی جملہ پروڈکٹس (بالخصوص اونٹنی کا دودھ بہت مفید ہے) کم چربی والا گوشت‘ دالیں خشک فروٹ‘ کسٹرڈ‘ ملک شیک‘ لسی‘ شہد کا متواتر استعمال‘ سالن میں کوکنگ آئل و مصالحہ جات کا کم استعمال۔ ناموافق غذائیں: بالائی‘ کریم‘ آلو‘ اروی‘ زیادہ مصالحہ جات‘ زیادہ گھی۔
سب سے پہلی تدبیر تو یہ ہے کہ مریض کو نسبتاً ٹھنڈے صاف ستھرے کمرے میں بالکل آرام سے لٹا دیا جائے۔ مریض ہر قسم کی دماغی اور جسمانی مشقت کوچھوڑ دے اور بالکل آرام کرے دوسری تدبیر یہ ہے کہ صبح گاجر کا عمدہ مربہ صاف پانی سے دھو کر کھالیں اوپر سے ایک چائے کی چمچی سونف اور پانچ چھوٹی الائچیاں کچل کر ایک کپ پانی میں جوش دے کر چھان کر ذرا سی چینی ملا کر پی لیں۔ یہ سونف الائچی کی چائے دن میں تین بار پئیں۔ تیسری تدبیر یہ ہے کہ پیٹھا کدو یا کسی بھی قسم کا کدو قتلے کرکے شوربے دار پکائیں۔ مصالحے کے طور پر دھنیا‘ سفید زیرہ‘ ادرک‘ کالی مرچ‘ ہلکا سا نمک‘ لہسن ڈالیں۔ سرخ یا ہری مرچ یا کسی قسم کا بھی گرم مصالحہ نہ ڈالیں نہ کھٹائی ڈالیں۔شدید بھوک پر قتلے بھی کھالیں۔ شوربا بھی پی لیں بس اسی سے پیٹ بھرلیں مناسب تو یہی ہے کہ ایک دو روز تک تو اسی پر گزارہ کریں البتہ گرما‘ سردا‘ بیدانہ انار‘ کیلا‘ خربوزہ‘ گنڈیری گنا‘ تربوز وغیرہ بھی کھاسکتے ہیں مگر کسی قسم کا اناج نہ کھائیں پھر ایک دو دن کے بعد شدید بھوک پر چپاتی‘ دلیہ‘ مونگ کی دال چاول کی کھچڑی بھی کھاسکتے ہیں اور مولی‘ گاجر‘ کھیرا‘ لوکی‘ توری بھی بغیر مرچ گرم مصالحے کے پکا کر کھاسکتے ہیں۔ کمزوری محسوس کریں تو غذا کے ساتھ ہی خالص شہد بھی کھائیں۔ جہاں پپیتہ میسر ہو وہاں پپیتہ بھی کھاسکتے ہیں اور اگر انگور کا موسم ہو تو صاف پانی سے دھو کر انگور بھی کھاسکتے ہیں۔ گلوکوز وغیرہ کا استعمال نہ کریں۔ ان تدابیر سے یرقان کو فوراً افاقہ ہونے لگتا ہے اور اکثر و بیشتر مریض اپنے آپ کو بالکل ٹھیک محسوس کرنے لگتا ہے ظاہری علامات آنکھوں اور پیشاب کا پیلا پن جاتا رہتا ہے خون کی رپورٹ بھی نارمل آنے لگتی ہے۔
1۔ مولی کے پتوں کا رس نکالیں‘ جوان آدمی کیلئے یومیہ ایک پاؤ‘ دیسی شکر اس میں اتنی ملائیں کہ میٹھا ہوجائے‘ چھان کر ایک ہی وقت میں استعمال کریں۔ صرف سات روز مسلسل استعمال کریں۔ 2۔ ارجن کے پتے مٹی کے برتن میں شام کو بھگوئیں۔ صبح مل کر چھان پی لیں۔ پھر صبح کو بھگو کر شام کو پئیں۔ 21 روز متواتر یہ نسخہ استعمال میں لائیں۔ 3۔لوکی کے بیج کا دودھ سردائی بنا کر پیتے رہیں‘ پیلے یرقان کیلئے بہت مفید ہے۔ 4۔ایک پاؤ میتھرے (میتھی نہیں) اور ایک پاؤ الائچی خوردلیں۔ دونوں کو اکٹھا پیس لیں۔ ایک چمچ صبح اور ایک چمچ شام ہمراہ دودھ استعمال میں لائیں۔