مردوں کی بیماریاں

اولاد کا نہ ہونا
جسمانی لحاظ سے بالکل صحت مند افراد بھی بعض دفعہ اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں ہونے۔ جسمانی اور جنسی دونوں لحاظ سے تندرست ہونے کے باوجود اولاد پیدا کرنے والے کیڑے یعنی Sperm موجود نہیں ہوتے اور بعض دفعہ موجود تو ہوتے ہیں لیکن بہت کمزور یا تعداد میں بہت کم۔اس کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں۔ مثلااگر خصیے پیدائش کے بعد پیٹ میں رہ جائیں تو پھر بھی سپرم پیدا نہیں ہوتے۔ کیونکہ جسم کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے سپرم نہیں بنتے۔ اگر خصیہ نہ اترے ہوں تو بچپن میں ماہر ڈاکڑ سے آپریشن کروا لینا چاہیے۔ جب یہ اپنی جگہ پر پہنچ جائیں گے تو پھر سپرم بننے لگ جاتے ہیں۔ اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ منی کی نالیاں خراب ہوتی ہیں اور کسی اور خرابی کی وجہ سے منی بنتی ہی نہیں اور اس طرح سپرم پراسٹیٹ گلینڈز تک نہیں پہنچ سکتے۔
اس کی دو قسمیں ہیں۔ 1۔ عارضی مردانہ بانجھ پن۔ 2۔ مستقل مردانہ بانجھ پن
اگر بارہ سے چودہ سال کی عمر میں کن پیڑے نکل آ ئیں تو اگر علاج صیح نہ ہو تو براہ راست اثر خصیوں پر ہوتا ہے اور مستقل طور پر بانجھ پن ہو سکتاہے۔ عدم انزال بھی اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ کیونکہ انزال کے وقت منی کو اخراج نہیں ہوتا ۔اور کچھ افراد میں منی سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتی۔ اسی طرح اگر کسی کو آتشک ،سوزاک کا مرض ہوا ہو تو پھر بھی سپرم نہیں بنتے اور اگر خصیہ کے کینسر یا ٹی بی ہو تو بھی کیڑے نہیں بنتے۔
عام طور پر اگر اولاد نہ تو عورت کو اس کا قصور وار سمجھا جاتا ہے۔ اگر اولاد نہ ہو رہی تو پھر مرد اور عورت دونوں کا اپنا میڈیکل چیک اپ کروانا چاہیے۔ چیک اپ کے بعد صحیح طور پر پتہ چل سکتاہے اور پھر دونوں میں سے جسے علاج کی ضرورت ہو اس کا علاج کیا جائے۔
علاج
علاج مرض کا اصل سبب معلوم ہونے کے بع شروع ہونا چاہے۔ جن لوگوں میں شروع سے سپرم نہ بنتے ہوں عام طور پر ایسے لوگ لا علاج تصور ہوتے ہیں۔ اور جن افراد میں سپرم موجو د ہوں لیکں کمزور یا کم ہوں تو ایسے افرادعلاج سے اولاد پیدا کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
اولاد کے لیے نسخہ
1۔کالی فاس سی ایم یعنی لاکھ کی طاقت میں ایک خوراک
2۔ ایک ماہ چھوڑ کر پھر ٹائفائیڈنیم سی ایم ایک خوراک
3۔ پھر ایک ماہ کا وقفہ کرکے زنکم سلف سی ایم ایک خوراک
یہ نسخہ جن لوگوں کے سپرم کم یا کمزور ہو ں لاجواب ہے۔ اگر ٹھیک نہ ہوں تو اس ترتیب سے دوبارہ دوائیاں دوہرائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں