معدے کا السر

معدے کا السر اور اس کا دیسی اور ہومیو پیتھک علاج
۔ معدے میں کسی وجہ سے بھی زخم ہو جائے تو اسے السر کہا جاتاہے۔السر زیادہ تر جلدی پریشان ہونیوالے متفکر، حساس اور چٹ پٹی غذا کھانے کے شوقین لوگوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے اور ان عناصر سے السر کی تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے۔ –
معدے کی خرابی میں سب سے پہلے بدہضمی کی علامت ظاہر ہوتی ہے۔ بھوک نہیں لگتی ایک وقت کھانے کے بعد دوسرے وقت یونہی لگتا ہے جیسے کھانا پیٹ میں ہی رکھا ہوا ہے۔ کھانے کے بعد پیٹ پُھول جاتا ہے۔ کھٹی کھٹی ڈکاریں آتی ہیں۔ متلی کے ساتھ ساتھ منہ میں کھٹا پانی بھر جاتا ہے۔، سینے پر بوجھ محسوس ہوتا ہے، پیٹ میں ہلکا ہلکا درد اور کبھی کبھار مروڑ کے بعد موشن آتا ہے۔ قبض کی شکایت رہنے لگتی ہے اور پیٹ سخت ہو جاتا ہے۔ اگر معدے میں تیزابیت بڑھ گئ ہو تو سینے میں جلن رہتی ہے، منہ میں دانے نکل آتے ہیں اور خالی پیٹ ہونے پر سینے کی جلن زیادہ ہو جاتی ہے۔ السر کی حالت میں پیٹ میں سخت درد اور لُوز موشن آتے ہیں جس میں کبھی کبھار خون کی آمیزش بھی ہوتی ہے۔ دردقولیج کی صورت میں ناف کے مقام پر درد رہتا ہے جبکہ بڑی آنت میں سوزش ہو تو ناف کے نیچے درد کی لہریں سی محسوس ہوتی ہیں۔
بیماری کے ذیلی اثرات
معدے کی خرابی سے دائمی سر درد، درد شقیقہ، نظر کی کمزوری، دائمی قبض، بواسیر، آنتوں کی کمزوری، پٹھوں کی کمزوری اور عام جسمانی کمزوری ہو سکتی ہے۔
پرھیز و احتیاط
روزانہ صبح شام چہل قدمی ضرور کریں۔ مُرغن اور بازاری کھانوں سے پرھیز کریں۔ کھانا ہمیشہ بُھوک رکھ کر کھائیں۔٭سب سے پہلے زندگی میں ٹھہرائو پیدا کریں۔ ہر کام شروع کرنے سے پہلے اس کے تمام پہلوئوں پر غور کریںاور مثبت سوچ اپنائیں۔٭سادہ اور متوازن غذا کھائیں، بھوک رکھ کرکھانا کھائیں۔٭لال مرچ سے مکمل پرہیز کریں۔٭صبح شام دودھ یا دہی یا شربت میں اسپغول کا چھلکا ملا کر استعمال کریں۔٭صبح شام ایک چمچہ شہد اور دوچمچ زیتون کا تیل ملا کر استعمال کریں۔٭زیادہ گھی اور تیل والی تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز کریں۔٭ زیادہ تیز چائے، کافی اور کولا ڈرنکس سے پرہیز کریں۔٭ معدے کے السر کے مریض، دن میں دو یا تین مرتبہ دو عدد کیلے کھا کر دودھ کا گلاس نوش فرمائیں، مرض میں فوری افاقہ ہوگا۔٭معدہ کے السرکے حامل افراد کیلئے لائم جوس مفید ثابت ہوتاہے۔٭بکری کا تازہ دودھ السر کے مریضوں کیلئے شافی غذا ہے، دن رات کم از کم تین بار نوش کیا جائے۔٭آنتوں کے السر کے مریضوں کیلئے قدرت نے گوبھی میں شفاء رکھی ہے۔ گوبھی کا جوس دن میں مختلف وقفوں میں پینے سے شفاء ملتی ہے۔
السر ہومیوپیتھک علاج
1. Mercurius Solubilis 1000
چند ہفتے ہفتہ وار
2. Bronya +Arnica 200
ہفتہ میں دو بار
3. Colosynthis 30+ Phosphours30+ Mag.Phos30
تینوں ملا کر دن میں تین بار، اگر تکلیف زیادہ ہو تو زیادہ بار بھی استعمال کی ج سکتی ہے۔
السر کا نسخہ
1. Iris versicular+ Arnica + Kali. Iodide 200
تینوں دوائیاں اکٹھی کھانی ہیں۔ شروع میں تین دن روزانہ پھر ہفتہ میں دوبار
2. Ferrum Phos +Kali Phos +Cal.Phos 6X
تینوں ملا کر دن میں تین چار بار
3. Kreosotum + Nux Vomica +Aconite 200
تینوں دوائیاں اکٹھی کھانی ہیں۔ شروع میں تین دن روزانہ پھر ہفتہ میں دوبار
انتڑیوں میں سوزش اور السر
1. Bryonia + Kurchi 200
ملا کر تین دن روزانہ ایک خوراک پھر ہفتہ میں دوبار
السر کا دیسی نسخہ
1۔ کالی شیشم کی چھال تین انگلیوں کے برابر چوڑی اور تقریبا 4 انچ چوڑی
2۔ دس عدد عناب
3۔ ایک چمچ سونف
ان تینوں کو ڈیڑھ گلاس پانی میں ابالیں کہ پانی پون گلاس رہ جائے ہر روز صبح نہار منہ پی لیں ۔ دس دن استعمال کریں اگر آرام نہ آئے تو مزید دس دن استعمال کریں۔
ھوالشافی: کلونجی پچاس گرام‘ چھلکا اسپغول پچاس گرام‘ شہد سوگرام۔ کلونجی پیس کر چھلکا اور پاؤڈر کلونجی شہد میں ملائیں۔ کسی ڈبے میں محفوظ رکھیں ایک چمچ ناشتے اور ہر کھانے کے بعد چاہیں تو نہار منہ بھی لے سکتے ہیں۔ بچوں بڑوں کیلئے نہایت خوش ذائقہ اور شاندار چیز ہے۔
شہد (30 ملی گرام) صبح ناشتے سے ڈیڑھ یا دو گھنٹے قبل، اور دوسری خوراک کھانے کے تین گھنٹے کے بعد کھائیں اور یہ عمل دو ماہ تک جاری رکھیں انشااللہ شفا ہو گئی۔ لیکن اگرمرض پھر بھی باقی رہ جائے تو 15 دن کے وقفے سے اس کا استعمال پھر سے شروع کر دیں۔
دو کھانے کے چمچے شہد پر تھوڑی سی پسی ہوئی دارچینی چھڑک کر کھانے سے قبل استعمال کرنے سے تیزابیت کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور انتہائی بھاری خوراک بھی آسانی سے ہضم ہوجاتی ہے۔
جوکا دلیہ پانی میں پکا کر دودھ اور شہد ملا کر صبح ناشتے میں استعمال کریں۔ یا جو کی روٹی لیں۔ ناشتے میں سالن کا استعمال نہ کریں۔
دہی کا استعمال بند کردیں
ٹھنڈا دودھ پئیں۔ کچا دودھ بہتر ہے