کریلے کی شفا یابی

کریلے کی شفا یابی
پروفیسر عنایت اللہ
ہمارے پڑوس میں ایک صاحب عبداللہ شاہ آیا کر تے تھے۔ عمر میں سو سال سے اوپر تھے ، مگر چست اور توانا۔ روزانہ تین چار میل پیدل چلتے۔ ان کی نظر بھی کمزور نہیں تھی، باریک لفظوں والا قرآن پاک پڑھتے ، کمر جھکی نہیں تھی۔ دانت بالکل سلامت تھے ، وہ جب کبھی آتے ان کے ملنے والوں میں افراتفری مچ جا تی۔ دوپہر کے کھا نے میں شاہ صاحب صرف کر یلے کھا تے۔ طرح طر ح کے پکو ان کریلوں سے بنائے جا تے۔ با زار میں دستیاب نہ ہوتے تو ان کے لیے تلاش کر کے لائے جا تے۔ کچھ معتقد تو ایسے تھے کہ ہر مو سم میں کریلے اگا تے تاکہ شاہ صاحب کو کھانے میں کو ئی شکایت نہ ہو۔ شاہ صاحب کہا کرتے :” صحت کا راز کریلوں میں ہے۔ آج تک میرے بدن پر گرمی کے مو سم میں پھوڑا پھنسی نہیں نکلی، خارش نہیں ہوئی۔ میرا رنگ اس عمر میں بھی سرخ و سفید ہے۔ میں ٹانک یا کشتے استعمال نہیں کر تا صرف دن میں ایک بار کریلے ضرور کھا تا ہوں۔ مجھے شو گر یا گنٹھیا کا عارضہ بھی نہیں ، اللہ کا شکر ہے من بھر سامان اٹھا کر چا ر میل تک گرمی میں چل سکتا ہوں۔ ”
موسم گرما میں کریلے بازار میں آسانی سے مل جاتے ہیں۔ انسانی جسم کے اندر فاسد مادے جمع ہوتے رہتے ہیں جو بعد میں نقصان کے جسم سے خارج کر دیتا ہے اور انتڑیاں صاف کرتا ہے۔ اس میں یہ بھی خوبی ہے کہ پیٹ میں درد اور مروڑ نہیں ہونے دیتا۔ کریلوں کی کڑواہٹ دور کر نے کے لیے عموماً ان کی چھیل اور نمک لگا کر رکھ دیا جا تا ہے۔ بیج پھینک دیے جا تے ہیں۔ بڑی بوڑھیاں آج بھی کر یلوں کو چھری سے کھر چ کر ان کے چھلکوں میں نمک لگا کر دھو لیتی ہیں۔ اور پھر تیل یا گھی میں تل کر چنے کی دال میں ملا دیتی ہیں۔ بھنی ہو ئی چنے کی دال اور کریلے کے چھلکے بڑے مزے کے بنتے ہیں۔ ان میں ہلکی سی تلخی ہوتی ہے مگر وہ جسم انسانی کے لیے بہت مفید ہے۔ اب تو ڈاکٹر بھی کریلے کا پانی تجویز کر نے لگے ہیں۔ پہلے طبیعت ایک یا دو تازہ کر یلے دھو کر آسمان کے نیچے رات بھر کے لیے رکھوا دیتے تھے اور صبح انہیں ثابت کوٹ کر ان کا پانی نہار منہ پلا تے تھے۔ معدہ خراب رہتا ہو، بھو ک کھل کر نہ لگتی ہو، گیس بہت زیادہ ہو، ہر وقت جسم میں ناتوانی کا احساس رہے یا ذرا سا کام کرنے سے تھکن ہو جائے اور ہا تھ پاؤں گرمی سے جلتے رہیں۔ صبح انھیں تو پنڈلیاں پتھر کی طر ح بھا ری اور بوجھل لگیں ، شوگر کی ابتدا ہو تو کریلے کا پانی پینے سے شفا مل جا تی ہے۔ جن کا مزاج بلغمی ہو، ان کے لیے کریلے بہت مفید ہیں۔ یرقان کے مریضوں کو بھی کھلائے جا تے ہیں۔ پتھری کے لیے بھی بے حد مفید ہیں۔ پیٹ میں کیڑے ہوں تو کریلے کھانے سے دور ہو جا تے ہیں۔ گنٹھیا کا مریض بھی انہیں کھا کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ دمے کے عارضے والے بھی اس انتہائی عمدہ سبزی کے استعمال سے صحت یاب ہو جا تے ہیں۔ کریلا بلغم خارج کر کے مریض کو سکون دیتا اور اعصابی کمزوری دور کر تا ہے۔ لقوہ اور فالج کے مریض بھی اسے کھا سکتے ہیں۔
آج کل گرمیوں ، خصوصاً بر سات کے مو سم میں جلد پر دانے اور پھنسیاں نکل آتی ہیں۔ مختلف قسم کے پر کلی ہیٹ پاؤڈر وقتی طور پر سکون دیتے ہیں۔ اسی طر ح لوشن لگانے سے ٹھنڈک تو پڑ جا تی ہے مگر آرام نہیں آتا۔ خواتین ہفتے میں دو تین بار کریلے پکا کر اس کا علاج گھریلو طور پر کر سکتی ہیں۔ ان کے استعمال سے چہرے کی جلد بھی صاف ہو جاتی ہے۔ کریلے کھا نے سے دائمی قبض دور ہوتا ہے۔ پیٹ میں پانی بھر جائے ، جگر بڑھ جائے تو دوا کے ساتھ ساتھ کریلے کھانے اور ان کا پانی اور کلو کا پانی پینے سے جلد ی فرق پڑتا ہے۔ جن لو گوں کا مزاج بہت گرم ہو ان کے لیے مناسب یہ ہو گا کہ وہ کریلوں میں دہی ڈال کر اور ہرا دھنیا ملا کر پکائیں۔ کریلے میں وٹامن بی اور سی کے علاوہ فو لاد کیلشیم، فاسفورس اور پروٹین پائے جا تے ہیں۔ یہ ساری چیزیں انسانی صحت اور زندگی کے لیے بڑی اہم ہیں۔ خواتین یہ بات پڑھ کر بہت حیران ہوں گی کہ کریلا موٹاپے کو دور کرتا ہے۔ آپ اس کی سبزی بنا کر ہفتے میں تین بار کھائیں۔ بھا رت کے کچھ علاقوں میں کریلے سکھا کر ان کا سفوف طبیب کی ہدایت کے مطابق روزانہ کھلا یا جا تا ہے۔ اس کے استعمال سے وزن کم ہو تا ہے اور جلد چمکدار اور شفاف ہونے لگتی ہے۔ مختلف قسم کے جلد ی امراض خود بخود دور ہو جا تے ہیں۔ جن لو گوں کو ذیابیطس ہو، ان کے لیے کریلا موسمی اعتبار سے بہترین غذا ہے۔ اس میں انسولین قدرتی طور پر مو جود ہو تی ہے۔ کریلے کھانے سے خون میں شکر کی بڑھتی ہو ئی سطح نا رمل ہو جا تی ہے۔ اس کے رس میں تھوڑا سا شہد ملا کر پینے سے جگر کے امراض میں فائدہ ہو تا ہے۔ کریلے کا رس زیادہ کڑوا لگے تو تھوڑے بھنے ہوئے چنے کھانے سے منہ کا ذائقہ ٹھیک ہو جا تا ہے۔ شوگر کے مریض بکرے کا قیمہ بھون کر علیٰحدہ رکھیں اور دو کریلے لے کر ان کا ہلکا سا کھرچ اور دھو کر توے پر برگر کی طر ح ہلکی آنچ پر سینک لیں۔ دونوں طرف سے سینک کر قیمے کے ساتھ کھائیں۔ اس سے فائدہ ہو گا۔ بعض جگہ خالص کریلے پکا نے کا رواج بھی ہے۔ کڑوے بہت ہو تے ہیں مگر صحت کے لیے نہایت مفید خیال کیے جا تے ہیں۔ کریلے پکا نے میں یہ احتیاط کرنی چاہیے کہ گھی میں تلنے کے بعد اس میں پانی نہ ڈالیں۔ ذراسا پانی پڑ گیا تو ساری ہنڈیا کڑوی ہو جائے گی۔ سوکھے کریلے کا سفوف دو گرام سے زیادہ استعمال نہ کیا جائے۔ ویسے بھی اپنے ڈاکٹر یا طبیب سے مشورہ کر نے کے بعد کھائیے۔
٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں